انسانی حقوق کا عالمی منشور

اقوام متحدہ نے 10دسمبر 1948ء کو اپنی جنرل اسمبلی کی منظور شدہ قرار داد کے تحت انسانی حقوق سے متعلق جو اعلان کیا اسے ’’انسانی حقوق کا عالمی منشور ‘‘کہا جا تا ہے ۔یہ منشور درج ذیل 30دفعات پر مشتمل ہے۔آئینِ پاکستان 1973ء میں بھی اقوامِ متحدہ کے انسانی بنیادی حقوق کے عالمی منشور کا خصوصی طور پر خیال رکھا گیا ۔
دفعہ1 : تمام انسان آزاد اور حقوق و عزت کے اعتبار سے برابر پیدا ہوئے ہیں انہیں ضمیر عقل و دیعت ہوئی ہے اس لیے انہیں ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارے کا سلوک کرنا چاہیے۔
دفعہ2 : ہر شخص ان تمام آزادیوں اور حقوق کا مستحق ہے جو اس اعلان میں بیان کیے گئے ہیں اور اس حق پر نسل ،رنگ، جنس ،زبان مذہب اور سیاسی تفریق کا یاکسی قسم کے عقیدہ ہے۔قوم، معاشرے ، دولت یا خاندانی حیثیت وغیرہ کا کوئی اثر نہ پڑ ے گا۔ اس کے علاوہ جس علاقے یاملک سے جو شخص تعلق رکھتا ہے اس کی سیاسی کیفیت دائرہ اختیار یا بین الاقوامی حیثیت کی بنا پر اس سے کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔ چاہے وہ ملک یا علاقہ آزاد ہو یا تو لیتی ہو یاغیر مختار ہو یا سیاسی اقتدار کے لحاظ سے کسی دوسری بندش کا پابند ہو۔ 
دفعہ3 :ہر شخص کو اپنی جان، آزادی اورذاتی تحفظ کا حق ہے۔
دفعہ4 :کوئی شخص غلام یا لونڈی بنا کر نہ رکھا جا سکے گا۔ غلامی اور بردہ فروشی ، چاہے اس کی کوئی شکل بھی ہو ، ممنوع قرار دی جائیگی۔
دفعہ5 کسی شخص کو جسمانی اذیت یا ظالمانہ انسانیت سوز ، یا ذلیل سلوک یاسزا نہیں دی جائیگی۔
دفعہ6 :ہر شخص کا حق ہے کہ ہر مقام پرقانون اس کی شخصیت کو تسیلم کرے۔
دفعہ7:قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور سب بغیر کسی تفریق کے قانون کے اند ر امان پانے کے برابر کے حقدار ہیں۔اس اعلان کے خلاف جو تفریق کی جائے یا جس تفریق کے لیے ترغیب دی جائے اس سے سب کے بچاؤ کے حق دار ہیں۔
دفعہ8 :ہر شخص کو ان افعال ک خلاف جو اس دستور یا قانون میں دیئے ہوئے بنیادی حقوق کو تلف کرتے ہوں با اختیار قومی عدالتوں سے مؤثر طریقے پر چارہ جوئی کرنے کا پوراحق ہے۔
دفعہ9 :کسی شخص کو محض حاکم کی مرضی پر گرفتار ، نظر بند یا جلاوطن نہیں کیا جائے گا۔
دفعہ10 :ہر ایک شخص کو یکساں طور پر حق حاصل ہے کہ اس کے حقوق و فرائض کا تعین یا اس کے خلاف کسی عائد کردہ جرم کے بارے میں مقدمہ کی سماعت آزاداور غیر جانبدار عدالت کے کھلے اجلاس میں منصفانہ طریقے پر ہو۔
دفعہ11 :)ا(یسے شخص کو جس پر کوئی فوجداری کا الزام عائد کیا جائے بے گناہ شمار کیے جانے کا حق ہے تاوقتیکہ اس پر کھلی عدالت میں قانون کے مطابق جرم ثابت نہیں ہو جائے اور اسے اپنی صفائی پیش کرنے کا پور ا موقع نہ دیا جاچکا ہو۔(2 ) کسی شخص کو ایسے فعل یا فرد گذاشت کی بنا پر جو ارتکاب کے وقت قومی یا بین الاقوامی قانون ک اندر تعزیری جرم شمار نہیں کیا جاتا تھا، کسی تعزیر ی جرم میں ماخوذ نہیں کیا جائے گا۔
دفعہ12 :کسی شخص کی نجی زندگی ، خانگی زندگی، گھر بار ، خط و کتابت میں من مانے طریقے پر مداخلت نہ کی جائیگی اور نہ ہی اس کی عزت اور نیک نامی پر حملے کئے جائیں گے۔ ہر شخص کا حق ہے کہ قانون اسے حملے یا مداخلت سے محفوظ رکھے۔
دفعہ13 :ہر شخص کا حق ہے کہ اسے ہر ریاست کی حدود کے اندر نقل و حرکت کرنے اور سکونت اختیار کرنے کی آزادی ہو۔ہر شخص کو اس بات کا حق ہے کہ وہ ملک سے چلا جائے چاہے یہ ملک اس کا اپنا ہواور اسی طرح اسے ملک میں واپس آجانے کا بھی حق ہے۔
دفعہ14 :ہر شخص کو ایذ ا رسانی سے دوسرے ملکوں میں پناہ ڈھونڈنے اور پناہ مل جائے تو اس سے فائدہ اٹھانے کا حق ہے۔یہ حق ان عدالتی کاروائیوں سے بچنے کے لئے استعمال میں نہیں لایا جاسکتا جو خالصتاً غیر سیاسی جرائم یا ایسے افعال کی وجہ سے عمل میں آتی ہیں جو اقوام متحدہ کے مقاصد اور اصول کے خلاف ہیں۔
دفعہ15 :ہر شخص کو قومیت کا حق ہے ۔ کوئی شخص محض حاکم کی مرضی پر اپنی قومیت سے محروم نہیں کیا جا ئیگااور اس کو قومیت تبدیل کرنے کے حق سے انکار نہ کیا جائیگا۔
دفعہ16 :بالغ مردوں اور عورتوں کو بغیر کسی ایسی پابندی کے جو نسل قومیت یا مذہب کی بنا پر لگائی جائے شادی بیاہ کرنے اور گھر بسانے کا حق ہے۔مردوں اور عورتوں کو نکاح اازدواجی زندگی اور نکاح کو فسخ کرنے کے معاملے میں برابر کے حقوق حاصل ہیں۔
دفعہ17 :ہر انسان کو تنہایا دوسروں سے مل کر جائداد رکھنے کا حق ہے۔کسی شخص کو زبردستی اس کی جائداد سے محروم نہیں کیا جائے گا۔
دفعہ18 :ہر انسان کو آزادی فکر آزادی ضمیر اور آزادی مذہب کا پورا حق ہے۔اس حق میں مذہب یا عقیدے کوتبدیل کرنے اور پبلک میں یا نجی طور پر تنہا یا دوسروں کے ساتھ مل جل کرعقیدے کی تبلیغ ، عمل ، عبادت اور مذہبی رسمیں پوری کرنے کی آزادی بھی شامل ہے۔
دفعہ19 :ہر شخص کو اپنی رائے رکھنے اور اظہار رائے کی آزادی کا حق حاصل ہے۔اس حق میں یہ امر بھی شامل ہے کہ وہ آزادی کے ساتھ اپنی رائے قائم کرے اورجس ذریعے سے چاہے بغیر ملکی سرحدوں کا ٰخیال کے علم اور خیالات کی تلاش کرے۔
دفعہ20 :ہر شخص کو پرامن طریقے پر ملنے جلنے اور انجمنیں قائم کرنے کی آزادی کا حق ہے ۔ کسی شخص کو کسی انجمن میں شامل ہونے کے لیے مجبور نہیں کیا جاسکتا۔
دفعہ21 :ہر شخص کو اپنے ملک کی حکومت میں براہ راست یا آزادانہ طور پر منتخب کئے ہوئے نمائندوں کے ذریعے حصہ لینے کا حق ہے۔ہر شخص کو اپنے ملک میں سرکاری ملازمت حاصل کرنے کا برابر حق ہے۔عوام کی مرضی حکومت کے اقتدار کی بنیا د پرہوگی۔ یہ مرضی وقتاً فوقتاً ایسے انتخابات کے ذریعے ظاہر کی جائیگی جو عام اور مساوی رائے دہندگی سے ہو ں گے اورجو خفیہ ووٹ یا اس کے مساوی کسی دوسرے آزادطریق رائے دہندگی کے مطابق عمل میں آئیں گے۔
دفعہ22 :معاشرے کے رکن کی حیثیت سے ہر شخص کو معاشرتی تحفظ کاحق حاصل ہے۔اور یہ حق بھی کہ وہ ملک کے نظام اور وسائل کے مطابق قومی کوشش اور بین الاقوامی تعاون سے ایسے اقتصادی ، معاشرتی اور ثقافتی حقوق کو حاصل کرے جو اس کی عزت اور شخصیت کے آزادانہ نشوونما کے لیے لازم ہیں۔
دفعہ23 :ہر شخص کام کاج اور روزگار کے آزادانہ انتخاب کام کاج کی مناسب اور معقول شرائط اور بے روزگاری کے خلاف تحفظ کا حق ہے۔ہرشخص کوکسی تفریق کے بغیر مساوی کام کے لیے مساوی معاوضے کا حق ہے۔ہر شخص جو کام کرتا ہے وہ ایسے مناسب و معقول مشاہرے کا حق رکھتا ہے۔جو خود اس کے اور اہل و عیال کے لیے باعزت زندگی کا ضامن ہو اورجس میں اگر ضروری ہو تو معاشرتی تحفظ کے دوسرے ذریعوں سے اضافہ کیا جا سکے۔ہر شخص کو اپنے مفاد کے بچاؤ کے لیے تجارتی انجمنیں قائم کرنے اور اس میں شریک ہونے کا حق حاصل ہے۔
دفعہ24 :ہر شخص کو آرام اور فرصت کا حق ہے جس میں کام کے گھنٹوں کی حد بندی اورتنخواہ کے علاوہ مقرروقفوں کے ساتھ تعطیلات بھی شامل ہیں۔
دفعہ25 :ہر شخص کو اپنی اور اپنے اہل و عیال کی صحت اورفلاح و بہبود کے لیے مناسب معیار زندگی کا حق ہے جس میں خوراک ، پوشاک ،مکان اورعلاج کی سہولتیں اور دوسری ضروری معاشرتی مراعات شامل ہیں اور بے روزگاری بیماری ، معذوری ، بیوگی ، بڑھاپا ان حالات میں روز گار سے محرومی جو اس کے قبضہ قدرت سے باہر ہوں کے خلاف تحفظ کا حق حاصل ہے۔زچہ اوربچہ خاص توجہ اورامداد کے حق دار ہیں اور تمام بچے خواہ وہ شادی سے پہلے پیدا ہوئے ہوں یا شادی کے بعد معاشرتی تحفظ سے یکساں طورپر مستفید ہوں گے۔
دفعہ26 :ہر شخص کو تعلیم کا حق ہے تعلیم مفت ہوگی۔کم سے کم ابتدائی اور بنیادی درجوں میں۔ ابتدائی تعلیم جبر ی ہوگی۔ فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کرنے کا عام انتظام کیا جائے گا۔اور لیاقت کی بنا پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا سب کے لیے مساوی طور پر ممکن ہوگا۔تعلیم کا مقصد انسانی شخصیت کی پوری نشوونما ہوگا۔ اور وہ انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے احترام میں اضافہ کرنے کا ذریعہ ہوگی ۔وہ تمام قوموں اور نسلی یا مذہبی گروہوں کے درمیان باہمی مفاہمت ، رواداری اور دوستی کو ترقی دے گی اور امن کو برقرار رکھنے کے لیے اقوام متحدہ کی سرگرمیوں کو آگے بڑھائے گی۔والدین کو اس بات کے انتخاب کا اوّلین حق ہے کہ ان کے بچوں کو کس قسم کی تعلیم دی جائیگی۔
دفعہ27 :ہر شخص کو قوم کی ثقافتی زندگی میں آزادانہ حصہ لینے ادبیات سے مستفید ہونے اور سائنس کی ترقی اور اس کے فوائد میں شرکت کا حق حاصل ہے۔ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ اس کے ان اخلاقی اور مادی مفا د کا بچاؤ کیا جائے جو اسے ایسی سائنسی ، علمی یا ادبی تصنیف جس کا و ہ مصنف ہے حاصل ہوتے ہیں۔
دفعہ28 :ہر شخص ایسے معاشرتی اور بین الاقوامی نظام میں شامل ہونے کا حق دار ہے جس میں وہ تمام آزادیاں اور حقوق حاصل ہوسکیں جو اس اعلان میں پیش کردئیے گئے ہیں۔
دفعہ29 :ہر شخص پر معاشرے کے حق ہیں کیونکہ معاشرے میں رہ کر ہی اس کی شخصیت کی آزادانہ اور پوری نشوونما ممکن ہے۔اپنی آزادیوں اور حقوق سے فائدہ اٹھانے میں ہر شخص صرف ایسی حدود کا پابند ہو گا جو دوسروں کی آزادیوں اور حقوق کو تسلیم کرانے اور ان کا احترام کرانے کی غرض سے یا جمہوری نظام میں اخلاق ، امن عامہ اورعام فلاح وبہبود کے مناسب لوازمات کو پورا کرنے کے لئے قانون کی طرف سے عائدکئے گئے ہیں۔یہ حقوق اورآزادیاں کسی حالت میں بھی اقوام متحدہ کے مقاصد اور اصول کے خلاف عمل میں نہیں لائی جاسکیں۔
دفعہ30 : اس اعلان کی کسی چیز سے کوئی ایسی بات مراد نہیں لی جاسکتی جس سے ملک ، گروہ یا شخص کو کسی ایسی سرگرمی میں مصروف ہونے یا کسی ایسے کام کو انجام دینے کا حق پیدا ہو جس کا منشا ان حقوق اور آزادیوں کی تخریب ہو جویہاں پیش کی گئی ہیں۔ 
________________________________________________________
برائے مہربانی نوک پلک سنوار کر شائع فرماویں۔ شکریہ
تحریر = اللہ ڈتہ انجم ۔دھنوٹ پتہ=سکنہ دھنوٹ ڈاکخانہ دھنوٹ تحصیل کہروڑ پکا ضلع لودھراں
موبائل نمبر36202-0924005-9 =NICN 0300-7812152=

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow