پاکستان میں معاشی سرگرمیاں بہت ضروری ہیں،کورونا کے باعث معاشی بحران میں شدت آ رہی ہے،نعیم صدیقی

پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال نہایت سنجیدہ اقدامات کا تقاضہ کرتی ہے کیونکہ کروروں لوگ تاریخ کے مشکل ترین مالی مسائل سے دوچار ہو گئے ہیں۔۔آئی ایم ایف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ آئندہ پانچ سالوں میں پاکستان کے قرضوں اور مہنگائی کی شرح میں کمی ہو گی، آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کی جانیوالی رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے 2021 ء کے دوران پاکستان کے قرضے کم ہوں گے اورمہنگائی کی شرح میں بھی کمی کا امکان ہے، آئی ایم ایف کے مطابق پانچ سال میں قرضے 90 فیصد سے کم ہوکر جی ڈی پی کے73.1 فیصد متوقع ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ایسا ہی ہوگا اور پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار و حالات عالمی مالیاتی فنڈ کی پیش گوئی کے مطابق رہیں گے۔مالی سال 2021 میں قرضے جی ڈی پی کے 87.8 فیصد ہوجائیں گے،مالی سال 2022 میں قرضے جی ڈی پی کے 83.7 فیصد متوقع ہیں، 2023 میں قرضے کم ہوکر جی ڈی پی کے 80.8 فیصد ہو جائیں گے، 2024 تک قرضے مزید کم ہوکر 77.4 فیصد رہ جائیں گے، 2025 میں قرضے جی ڈی پی کے 73.1فیصد تک ہونے کی توقع ہے۔ پانچ سال میں مہنگائی 10.5 فیصد سے کم ہوکر 4.8 فیصد رہ جائیگی، مالی سال 2021 میں مہنگائی کم ہوکر 9 فیصد،2022 میں مہنگائی 8 فیصد، 2023 میں مہنگائی 6.1 فیصد، 2024 میں 4.9 فیصد، 2025 میں مہنگائی کی شرح کم ہوکر 4.8 فیصد متوقع ہے۔ پاکستان میں آئی ایم ایف کی نمائندہ ٹریسا دابن سانچز نے واضع کیا ہے کہ پاکستان نے قرضوں میں ریلیف کیلئے ابھی تک پیرس کلب سے قرضوں کا التوا نہیں مانگا اور نہ کسی دوسرے ملک نے باضابطہ طور پر قرضے معافی کی کوئی درخواست کی ہے، جی 20 ممالک کی جانب سے قرضوں میں ریلیف دینے سے متعلق اعلان واضح نہیں ہے تاہم آئی ایم ایف فی الحال جائزہ لے رہا ہے۔ٹریسا دابن سانچز کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان نے تعمیراتی شعبے کوجو ایمنسٹی دی ہے اور جس بڑے پیکیج کا اعلان کیا ہے اس کے لئے آرڈ یننس بھی جاری کیا گیا ہے یہ مستقل نہیں بلکہ عارضی نوعیت کا ہونا چاہئے کورونا وائرس کی وباکے بعد جیسے ہی حالات معمول پر آئیں تو تعمیراتی شعبے کو دی گئی ایمنسٹی واپس لے جانی ضروری ہو گی، جہاں تک بنک دولت آف پاکستان کا تعلق ہے تو اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ سٹیٹ بنک کو خود مختاری کے عالمی معیار کے مطابق ہوناچاہئے۔آئی ایم ایف کی نمائندہ کا مہنگائی کے بارے یہ کہنا تھا کہ پاکستان میں مہنگائی کا دباؤ برقراررہے گاکیونکہ یہ ابھی تک دوعددی ہے او رواں مالی سال 11.3فیصد پر رہے گی،کوروناوائرس کے باعث پاکستان کے قرضے کمی کے بجائے بڑھیں گے، اس سے پرائمری خسارہ میں بھی اضافہ ہوگا۔
موجودہ عالمی وبا کورونا وائرس کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ کورونا کے باعث پاکستان کے ریونیو میں 900ارب روپے کی کمی ہوگی، یہ بڑی افسوسناک بات ہے کہ پاکستان کو کوروناوائرس کی وبا سے نمٹنے کیلئے بجٹ میں سے 700ارب روپے استعمال میں لانا ہونگے۔یہ بات بجا ہے کہ مختلف ریگولیٹری اقدامات کے ذریعے دی گئی رعایت عارضی ہونی چاہئے۔ مستقبل میں اس کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ اس سے مسائل پیدا ہو تے ہیں یہ ریگولیٹر ی اقدامات عارضی ہیں ان کو بعد میں ختم کر دیا جانا چاہئے، آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان اور دیگر ممالک کوکہا گیا ہے کہ جیسے ہی حالات معمول پر آئیں پالیسی اقدامات کوواپس لایا جائے۔ کورونا وائرس کی وبا پھیلنے سے قبل پاکستان کی معاشی کارکردگی تسلی بخش تھی جس میں سخت معاشی نظم اور دیگر مثبت اشاریے شامل تھے۔
کورونا وائرس کے مقابلے کی استعداد میں مدد دینے کے حوالے سے حکومت کے مختلف اہم اقدامات جو کورونا وبا کے پیش نظر کیے ہیں ان میں بعض اشیاپر درآمدی ڈیوٹی کا خاتمہ، کمزور طبقات کو نقد امداد وغیرہ شامل ہیں۔یہ بہت اچھے اقدامات ہیں۔ کورونا وائرس سے پہلے پاکستان نے مختلف پالیسیوں پر عملدرآمد ا ور معاشی استحکام کیلئے جوکوششیں کیں ان سے آئی ایم ایف مطمئن تھا اور پاکستان میں معاشی استحکام دیکھا جارہا تھا، اس وقت تعمیراتی شعبے کو جو فوری رعایت دی گئی ہے اس کے پاکستان کی معیشت پر فوری مڈثبت اثرات مرتب ہوں گے،معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور سب سے بڑھ کر ہمارا جو دیاڑی دار نزدور ہے اس کا روزگار میسر ہوگا اور ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں گھروں کے چولہے چلیں گے۔اگر یہ کہا جائے تو مناسب ہو گے کہ حکومت کی بروقت اور مثبت فیصلے سے موجودہ حالات میں ان کے یومیہ اجرت والے طبقے پر امید افزا اور مفید اثرات مرتب ہوں گے۔حالات معمول پر آنے کے بعد قواعد کو بہترین عالمی معمولات کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے، آئی ایم ایف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ قرضے کے جاری پروگرام کے حوالے سے پاکستان کے حکام کیساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور آئندہ جائزہ مشن اس کا بڑی تفصیل سے جائزہ لے کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گا۔ کورونا وائرس کے باعث جہاں پاکستان کو اندرونی طور پر بے پناہ مسائل کا سامنا ہے وہیں پاکستان کی مختلف ممالک کو برآمدات میں بہت زیادہ کمی دیکھنے میں آرہی ہے، ریونیو میں بہت زیادہ کہی ہو رہی ہے بیرون ملک سے بہت زیادہ پاکستانیوں کی واپسی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان کی بیرون ملک سے آنے والی ترسیلات میں توقع سے زیادہ کمی ہوگی جس کے منفی اثارت ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر پر مرتب ہوں گے۔ جہاں تک شرح نمو کا تعلق ہے تو تو اس بارے میں یہی امکان ہے کہ یہ کم ہو کر 1.5فیصد تک آ سکتی ہے۔ اس صورتحال میں آئی ایم ایف کی معاونت اور ورلڈ بنک کے علاوہ ایشین ڈیویلپمنٹ بنک کی معاونت پاکستان کی لئے بہت ضروری ہوگی تاکہ پاکستان اپنی مالیاتی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے معاشی ترقی کاسفر جاری رکھ سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow